:
Breaking News

8ویں تنخواہ کمیشن پر سرکاری ملازمین کی بڑی مانگیں، کم از کم تنخواہ 69 ہزار روپے کرنے کا مطالبہ

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

8ویں تنخواہ کمیشن کے حوالے سے سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے تنخواہ، پنشن اور مراعات میں بڑے اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ NC-JCM نے حکومت کو تفصیلی میمورنڈم پیش کر دیا۔

نئی دہلی/آلَم کی خبر:نئی دہلی میں 8ویں تنخواہ کمیشن کو لے کر سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی جانب سے مطالبات میں تیزی آ گئی ہے۔ طویل عرصے سے انتظار کیے جانے والے اس کمیشن کے حوالے سے اب ملازمین کی تنظیموں نے اپنے مطالبات پر مشتمل تفصیلی میمورنڈم مرکزی حکومت کو پیش کر دیا ہے، جس کے بعد اس معاملے پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

نیشنل کونسل–جوائنٹ کنسلٹیٹو مشینری (NC-JCM) کی جانب سے حکومت اور کمیشن کو دیے گئے اس میمورنڈم میں تنخواہوں، پنشن، مہنگائی الاؤنس اور دیگر مراعات میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ملازمین کا مؤقف ہے کہ موجودہ تنخواہی ڈھانچہ موجودہ مہنگائی کے مقابلے میں ناکافی ہے اور اس میں فوری نظرثانی ضروری ہے۔

سب سے اہم مطالبہ کم از کم تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہے۔ موجودہ 18,000 روپے ماہانہ تنخواہ کو بڑھا کر 69,000 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہر سال 6 فیصد سالانہ اضافہ اور ترقی کے وقت کم از کم 10,000 روپے اضافے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

تنخواہی اسکیل میں بھی بڑی تبدیلیوں کی سفارش کی گئی ہے۔ لیول-1 کے ملازمین کے لیے موجودہ 18,000 سے 56,900 روپے کے بجائے کم از کم 69,000 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح لیول-2 میں 21,700 سے 69,100 روپے کے بجائے 83,200 روپے تک اضافہ کی تجویز دی گئی ہے۔ لیول-3 کے لیے موجودہ 29,200 سے 92,300 روپے کی حد کو بڑھا کر 1,12,000 روپے تک کرنے کی سفارش شامل ہے۔

ملازمین نے بونس اور گریجویٹی کے قوانین میں نرمی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ میمورنڈم کے مطابق ہر ملازم کو کم از کم 30 دن کا بونس دیا جائے اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ کے لیے گریجویٹی قوانین کو آسان بنایا جائے۔

چھٹیوں کے نظام میں بھی اہم تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے۔ میٹرنٹی لیو کو 240 دن اور پیٹرنٹی لیو کو 45 دن تک بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ارنڈ لیو کو بغیر کسی حد کے جمع کرنے کی اجازت دینے کی بھی سفارش شامل ہے۔

نئی مراعات میں لیو ان کیشمنٹ کو 600 دن تک بڑھانے کی بات بھی سامنے آئی ہے، جبکہ 20 سال کی سروس مکمل ہونے پر 50 فیصد ان کیشمنٹ کی سہولت دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ خواتین ملازمین کے لیے خصوصی میڈیکل لیو اور 60 دن کی پیرنٹ کیئر لیو کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

ملازمین تنظیموں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر یہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق اگر تنخواہی ڈھانچے میں بروقت تبدیلی نہ کی گئی تو ملازمین پر مالی دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔

فی الحال حکومت کی جانب سے اس میمورنڈم پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ مطالبات آنے والے دنوں میں پالیسی سطح پر اہم بحث کو جنم دیں گے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *